پاکستان کرکٹ ٹیم جب بھی کسی ٹورنامنٹ میں انڈیا سے ہارتی ہے تو یہ ایک نیا زخم ہوتا ہے لیکن درحقیقت ہر نئی شکست پرانے زخموں کو پھر سے تازہ کردیتی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں انڈیا سے 13 میچز ہارچکی ہے اور جہاں تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا تعلق ہے تو ناکامیوں کا سلسلہ 8 میچوں تک دراز ہوچکا ہے جس کے سامنے پاکستان کی صرف ایک جیت لکھی نظر آتی ہے۔
کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں انڈیا کے خلاف اپنے تیسرے سب سے کم اسکور پر آؤٹ ہوکر 61 رنز کی ہزیمت سے دوچار ہونے والی پاکستان ٹیم کی کارکردگی نے کئی سوالات اٹھادیے ہیں۔ کھیل میں جیت ہار ہوتی ہے لیکن پاکستان ٹیم جس طرح اب انڈیا سے ہارتی جارہی ہے اس نے اس حقیقت کو واضح کردیا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان اب ایک بڑا فرق موجود ہے۔
صرف یہی نہیں کہ انڈیا عالمی رینکنگ میں پہلے اور پاکستان چھٹے نمبر کی ٹیم ہے، دونوں ٹیموں کی ذہنی پختگی اور مضبوطی میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ مشکل صورتحال میں حواس پر قابو رکھنے اور حواس کھو بیٹھنے کا فرق ہمیں کولمبو کے اس میچ میں واضح طور پر نظر آیا ہے۔
کن کھلاڑی کو اب جانا چاہیے؟
استاد قمرجلالوی کی مشہور غزل کب میرا نشیمن اہل چمن ۔۔۔۔۔ جو حبیب ولی محمد نے گائی، اس کا ایک مصرعہ مجھے موقع کی مناسبت سے یاد آرہا ہے:
"جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں”
پاکستان ٹیم کی جو حالیہ کارکردگی ہے اس کے بعد تو یہی لگتا ہے کہ ٹیم پر بوجھ بننے والے کھلاڑیوں کو رخصت کیے بغیر اب بات نہیں بنے گی۔
اگر آپ کہتے ہیں تو میں ان کھلاڑیوں کے نام بھی بتانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کیونکہ صرف میں ہی نہیں پوری دنیا ان ناموں سے واقف ہے جو گزشتہ کافی عرصے سے بڑی ٹیموں کے خلاف اپنی غیرتسلی بخش کارکردگی کے باوجود ٹیم میں جگہ بنائے ہوئے ہیں، خاص کر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں۔
شاہین شاہ آفریدی
پہلا نام شاہین شاہ آفریدی کا آتا ہے جن کے خوبصورت کمرشلز بنے جن میں انہیں یہ کہتے ہوئے سب نے دیکھا کہ وہ پاکستان کے پریمیئر فاسٹ بولر ہیں لیکن ان کی حالیہ کارکردگی ان کے اس دعوے کی نفی کررہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک شاہین شاہ آفریدی کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور وہ کسی بھی بیٹنگ لائن کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے تھے لیکن اب حالات مختلف ہیں۔
شاہین شاہ آفریدی فٹنس مسائل سے دوچار ہونے کی وجہ سے اپنا اثر کھوبیٹھے ہیں اور ان کی رفتار میں بھی کمی آئی ہے اور گیند کو سوئنگ کرنے کی مہارت بھی پہلے جیسی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔
حالیہ بگ بیش میں ہم نے دیکھا کہ ایک میچ میں انہوں نے تین نامکمل اوورز میں 43 رنز دے ڈالے اور پھر اگلے ہی میچ میں ان کے چار اوورز میں 49 رنز بنے تھے۔
انڈیا کے خلاف اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم ترین میچ میں شاہین شاہ آفریدی نے جو مایوس کن پرفارمنس دی ہے اس کے بعد ان کے ُسسر شاہد آفریدی بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ شاہین کو بابراعظم اور شاداب خان کے ساتھ نمیبیا کے خلاف میچ سے ڈراپ کردینا چاہیے اور بنچ پر بیٹھے کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف کا بھی یہی کہنا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی، بابراعظم اور شاداب کا وقت ختم ہوچکا، کمزور ٹیموں کے خلاف پرفارمنس نہیں، اب ٹی ٹوئنٹی ٹیم کو پرفارمنس دینے والے نئے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔
بابراعظم وقت کی رفتار سے پیچھے
وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ ہر کھلاڑی پر برا وقت آتا ہے لیکن وہ حالات کو دیکھ کر اپنے بارے میں فیصلہ کرتا ہے۔
بابراعظم اسوقت تینوں فارمیٹس کھیل رہے ہیں لیکن سب دیکھ رہے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں وہ اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایک فارمیٹ سے جڑے رہنے کے لیے انہیں اپنے دیگر دو فارمیٹس کو متاثر نہیں کرنا چاہیے جن میں ان کے لیے زیادہ اچھی کارکردگی کی گنجائش موجود ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بابراعظم نے ٹی ٹوئنٹی میں شاندار پرفارمنس دی ہے اور وہ اسوقت ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں لیکن اب ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جس تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نیا انداز اختیار کرتی جارہی ہے بابراعظم ان تقاضوں کو پورا کرتے نظر نہیں آرہے ہیں۔
پہلے وہ اوپنر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے کامیاب ضرور رہے لیکن اس وقت بھی ان پر یہی تنقید ہوتی تھی کہ وہ جارحانہ انداز سے بیٹنگ نہیں کرتے اور ان کے اسٹرائیک ریٹ پر بات ہوتی تھی۔
اس زمانے میں بھی پاکستان ٹیم کے ڈریسنگ روم میں مڈل آرڈر بیٹسمین یہی آوازیں بلند کرتے تھے کہ بابر اور رضوان سنچری پارٹنرشپ ضرور قائم کرتے ہیں لیکن جب وہ پندرہویں سولہویں اوور میں آؤٹ ہوکر آتے ہیں تو مڈل آڈر بیٹسمینوں کو کھیلنے کے لیے کیا ملتا ہے؟
یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ بابراعظم اور محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں مجموعی طور پر 10 سنچری پارٹنرشپس قائم کی تھیں۔
اب جب بابراعظم کا بیٹنگ آرڈر تبدیل ہوا ہے تو ان کا بیٹنگ کا انداز اس نئی پوزیشن سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ چوتھے یا تیسرے نمبر پر آکر تیز بیٹنگ کریں لیکن چونکہ وہ سیٹ ہونے میں تھوڑا وقت لیتے ہیں لہذا وہ اس نئی تبدیلی سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکے ہیں۔
بابراعظم کے ساتھ یہ مسئلہ ہمیشہ سے رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آتی گئی ہے کہ وہ بڑی آسانی اسپنرز کی بولنگ کا شکار ہوئے ہیں جیسا کہ انڈیا کے خلاف میچ میں ہم نے دیکھا۔
اگر ہم اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو بابراعظم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 25 مرتبہ اسپنرز پر آؤٹ ہوچکے ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ 5 مرتبہ آسٹریلیا کے ایڈم زمپا نے آؤٹ کیا ہے جبکہ مائیکل بریسویل اور عادل رشید انہیں چار چار مرتبہ آؤٹ کرچکے ہیں۔ اش سوڈھی نے انہیں 3 مرتبہ آؤٹ کیا ہے۔
وہ ان 25 میں سے 11 مرتبہ لیفٹ آرم اسپنرز کی بولنگ پر آؤٹ ہوئے ہیں۔
بابراعظم 4 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں 20 میچز کھیل چکے ہیں جن میں وہ صرف 5 نصف سنچریاں ہی بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔
شاداب بڑے امتحان میں ناکام
انڈیا کے خلاف یوں تو کئی کھلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی کا چرچا رہا ہے لیکن سینئر ہونے کے ناتے شاداب خان پر بہت زیادہ تنقید ہورہی ہے۔
شاداب خان ان فٹ ہونے کی وجہ سے ٹیم سے کچھ عرصہ باہر رہے لیکن اب جب وہ واپس آئے ہیں تو ایک آل راؤنڈر اور خاص کر لیگ اسپنر کی حیثیت سے ان سے ہر کوئی ایسی کارکردگی کی توقع کررہا ہے جو ٹیم کے لیے کارآمد ثابت ہو۔
شاداب خان نے سری لنکا کے خلاف دمبولا کے ٹی ٹوئنٹی میں مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف بھی دو میچوں میں ان کی کارکردگی اچھی رہی۔ اسی طرح کی کارکردگی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکہ کے خلاف بھی رہی لیکن جب معاملہ بڑی ٹیم کے خلاف مقابلے کا آیا تو وہ بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
شاداب خان ہوں یا ابرار احمد یہ وہ بولر ہیں جن کا مڈل اوورز میں آکر وکٹیں لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ابرار احمد نے بھی انڈیا کے خلاف مایوس کیا۔ ان کی مسٹری بولنگ کا سب کو انتظار ہی رہا۔
ٹیم کو صائم کے رنز چاہئیں
ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے صائم ایوب کو آل راؤنڈ ضرور بنادیا ہے لیکن سب اوپنر صائم ایوب کو ڈھونڈ رہے ہیں کہ وہ کہاں غائب ہوگیا ہے؟
ٹھیک ہے صائم ایوب کا اسپن آپشن ٹیم کو فائدہ پہنچا رہا ہے لیکن ان کی بحیثیت اوپنر غیرمستقل مزاج کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے۔
صائم ایوب نے آسٹریلیا کے خلاف ایک نصف سنچری بنائی جبکہ اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ابتک کے تین میچوں میں ان کا سب سے بڑا اسکور محض 24 رنز رہا ہے۔ آخری 15 اننگز میں ان کے بلے سے صرف 2 نصف سنچریاں بنی ہیں۔
ٹیلنٹ ضائع مت کریں
شاہین آفریدی، بابراعظم اور شاداب خان چار چار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ اب اگلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان تینوں کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں مزید کھلانا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ کسی صورت میں دانشمندی نہیں ہوگی۔
پاکستان کے پاس باصلاحیت بیٹسمینوں اور بولرز کی کمی نہیں ہے لیکن بات صرف صحیح وقت پر مواقع دے کر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔
سفیان مقیم، سلمان مرزا، معاذ صداقت، شامل حسین اور متعدد دوسرے باصلاحیت کھلاڑی موقع ملنے کے منتظر ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ وقت گزرجائے ان باصلاحیت کھلاڑیوں کو میدان میں اتار دیا جائے۔
بڑے نام بہت دیکھ لیے۔








