1965 کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر ریڈیو پاکستان سے ایک پروگرام ہوا کرتا تھا جس میں صداکارہ عرش منیر کا مکالمہ „میں نہ مانوں“ بہت مشہور ہوا تھا جو بھارت کی ہٹ دھرمی کی عکاسی کرتا تھا۔
آج جب میں بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کے بارے میں بھارت کی متعصبانہ سوچ دیکھتا ہوں تو مجھے قطعاً حیرت نہیں ہوتی اور میرے ذہن میں یہی بات آتی ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔
ہز ماسٹر وائس
پاکستان کی حکومت نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے لیکن بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس پر بھارت بھر میں جیسے کہرام مچا ہوا ہے۔
بی سی سی آئی کے مخصوص حمایت یافتہ صحافی اور سابق کرکٹرز „ہز ماسٹر وائس“ بنے پاکستان کو بین الاقوامی کرکٹ سے باہر کرنے کی دھمکیاں دیتے نظر آ رہے ہیں، لیکن اس سلسلے میں آئی سی سی بھی اسپرٹ آف دی گیم اور کھیل کے تقدس کا سبق پڑھانے میں مصروف ہو چکی ہے۔
آئی سی سی اس وقت کہاں تھی جب بی سی سی آئی نے پوری انٹرنیشنل کرکٹ کو اپنی مالی حیثیت کی بنیاد پر یرغمال بناتے ہوئے خاص طور پر پاکستان کی کرکٹ کو نشانے پر رکھا ہوا تھا؟
لیکن اب جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی سی سی آئی کی ہٹ دھرمی اور آئی سی سی کی خاموش تماشائی کی پوزیشن کو چیلنج کر دیا ہے تو سب کی چیخیں نکل گئی ہیں۔
اب آئی سی سی کو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ انٹرنیشنل کرکٹ مزید یرغمال بننے کے لیے تیار نہیں، کم از کم پاکستان اس بدمعاشی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
ماضی میں آئی سی سی اور بی سی سی آئی نے پاکستان کی خاموشی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور اس خاموشی کو کمزوری سمجھا ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
ایک فیصلے نے سب کچھ واضح کر دیا
بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے کے صرف ایک فیصلے نے بی سی سی آئی اور آئی سی سی کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا کر دیا ہے۔
انہیں اربوں کا مالی نقصان صاف نظر آ رہا ہے اور اب وہ پاکستان کو یہ دھمکیاں دینے پر آ گئے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو کن سزاؤں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کل تک یہی لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے یا نہ کھیلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، تو اب کیا ہوا؟
اب کیوں چیخ رہے ہیں؟
آئی سی سی: کرکٹ کی اقوام متحدہ
اس بارے میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ آئی سی سی ایک ایسی باڈی ہے جو کسی اصول اور غیر جانبداری کے بغیر چل رہی ہے۔
وہ ہر وہ فیصلہ کرتی ہے جس میں بی سی سی آئی کی مرضی و منشا شامل ہوتی ہے۔
انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ اس کے ہمنوا بنے اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں کہ کہیں مائی باپ ناراض نہ ہو جائے۔
آئی سی سی اس وقت اپنی ڈکشنری سے چند خوبصورت الفاظ چن کر اپنے آفیشل اسٹیٹمنٹ میں لے کر آئی ہے، لیکن کیا اسے ان الفاظ کے اصل معنی بھی معلوم ہیں؟
کھیل کا تقدس کہاں تھا؟
کھیل کا تقدس اور کھیل کی روح اس وقت کہاں غائب ہو گئی تھی جب بھارت کھیل میں سیاست لاتے ہوئے پاکستان کی کرکٹ کو کنارے لگانے پر تلا بیٹھا رہا؟
بھارت نے من مانی اور ہٹ دھرمی کے تمام ہتھکنڈے صرف کرکٹ میں ہی استعمال کیے ہیں کیونکہ آئی سی سی میں وہ اہلیت نہیں جو کسی بھی عالمی باڈی میں ہوتی ہے۔
کیا بھارت جو کچھ کرکٹ میں کرتا آیا ہے وہ یہی حرکتیں فٹبال، ایتھلیٹس، ویٹ لفٹنگ اور دیگر کھیلوں میں بھی کر سکتا ہے؟
ہرگز نہیں۔
کیونکہ ان کھیلوں کی عالمی فیڈریشنز نے سیاست کو اپنے کھیلوں سے دور رکھا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال فیفا ہے جو ایک مضبوط باڈی ہونے کے ناتے پوری دنیا پر کنٹرول رکھتی ہے، جبکہ آئی سی سی کے تمام فیصلے بھارت کو خوش کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں آئی سی سی کی حیثیت اب وہی نظر آتی ہے جو اقوام متحدہ کی ہے:
کوئی بڑا فیصلہ پسند نہ آئے تو ویٹو کر دو۔
منتخب یادداشت
آئی سی سی اس وقت تو ریت میں کبوتر کی طرح گردن ڈالے بیٹھی رہی جب بھارت نے پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا۔
یہاں تک کہ اس نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور ایشیا کپ میں بھی پاکستان آنے سے انکار کیا۔
اس وقت آئی سی سی کو کھیل کا تقدس اور کھیل کی روح کیوں یاد نہیں آئی؟
بی سی سی آئی: ایک سیاسی ونگ
ایک زمانہ تھا جب بی سی سی آئی کی باگ ڈور جگ موہن ڈالمیا، راج سنگھ ڈونگرپور اور اندرجیت سنگھ بندرا جیسے لوگوں کے ہاتھ میں تھی، جنہوں نے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود کرکٹ کو متاثر نہیں ہونے دیا۔
لیکن بی جے پی کی نفرت بھری پالیسیوں نے بی سی سی آئی کو جیسے اپنا ونگ بنا لیا ہے۔
جے شاہ خود سے کوئی قدم اٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتے، لیکن اپنے والد امیت شاہ کی ہدایات پر عمل ضرور کرتے ہیں۔
یہ بات بھارت کا سنجیدہ طبقہ بھی محسوس کرتا ہے، جس کی جھلک دنیا نے سینئر صحافی شاردا اوگرا کے انٹرویو میں دیکھ لی ہے۔
کرکٹ میں سیاست کون لایا؟
پاکستان کو کھیل میں سیاست نہ لانے کا سبق پڑھانے والے یہ انڈین صحافی، کمنٹیٹر اور سابق کرکٹرز دراصل دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔
سب جانتے ہیں:
ایشیا کپ فائنل کے اختتام پر سیاسی تقریر کس نے کی؟
ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ کس نے کیا؟
ٹرافی لینے سے انکار کس نے کیا؟
پھر کہتے ہیں: کھیل میں سیاست نہ لاؤ۔
دنیا کو آخر کب تک بے وقوف بناتے رہو گے؟






