ٹائٹل تصویر

کبھی قربتیں کبھی فاصلے

عبدالرشید شکور۔

ٹائٹل تصویر

انڈیا پاکستان کرکٹ

انڈیا پاکستان کرکٹ کھیلی تو جارہی ہے لیکن اس شکل میں کہ ہاتھ نہیں ملانا، ٹرافی نہیں لینی۔ کل تک ایک دوسرے کے دلوں میں جگہ بنائے بیٹھے تھے لیکن آج نظریں ملانے سے بھی کترارہے ہیں۔

آج بھارت پاکستان کرکٹ جس صورتحال سے دوچار ہے کیا کھلاڑی خود سے ایسا کررہے ہیں؟ یا انہیں کہیں اور سے ملنے والی ہدایات پر ایسا کرنے کے لیے کہا جارہا ہے؟

عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی بھارت پاکستان کرکٹ نہیں رک رہی ہے لیکن اس میں موجود تضاد صاف نظر آرہا ہے۔ سب کو پتہ ہے اس کرکٹ کی ضرورت کیوں اور کس کو ہے؟

دو طرفہ کرکٹ نہیں ہورہی ہے لیکن جب بات آئی سی سی اور اے سی سی ایونٹس کی آجائے تو کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کرکٹ کا ریموٹ براہ راست براڈ کاسٹرز کے ہاتھوں میں ہے اور جب اس نے اربوں ڈالرز کے نشریاتی حقوق لے رکھے ہیں جن میں اسے سب سے بڑا مالی فائدہ صرف انہی دو ملکوں کی کرکٹ سے ہونا ہے تو پھر سیاسی اختلافات کے معنی بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔

آئی سی سی کو بھی پتہ ہے جب پاکستان اور بھارت آئی سی سی ورلڈ کپ میں الگ الگ گروپ میں ہوتے تھے تو رنگ کتنا پھیکا ہوتا تھا لیکن دونوں کو ایک ہی گروپ میں رکھ کر اب کیا کیا مقاصد پورے ہورہے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور تجزیہ کار یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو ایک گروپ میں رکھ کر آئی سی سی اپنے ٹورنامنٹس کا توازن خراب کررہی ہے۔ یہ فیئر کرکٹ نہیں ہے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے اپنے ایک اخباری کالم میں آئی سی سی پر تنقید کی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باوجود آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں دونوں ٹیموں کے میچز رکھے جاتے ہیں جن کا واحد مقصد مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔

ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ کرکٹ جو کبھی ڈپلومیسی کے لیے ایک ذریعہ تھی اب سیاسی نمائش کا میدان بن گئی ہے۔

شاہین آفریدی

بھارت کے سینئر صحافی پردیپ میگزین کے ایک حالیہ مضمون میں موجود گہرا طنز محسوس کیا جاسکتا ہے:

״ منافقت کی انتہا دیکھیں کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم ایک ساتھ کمنٹری بھی کریں گے، براڈ کاسٹرز کی مدد بھی کریں گے، پیسہ بھی کمائیں گے لیکن میدان میں ہاتھ نہیں ملائیں گے۔״

انہوں نے مزید لکھا ہے:

״ بھارت ایشیا کپ کے تین میچوں کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان سے ہاتھ نہ ملاکر کیا ثابت کرنا چاہ رہا تھا؟ ظاہر ہے کہ سوریا کمار یادو نے یہ سب کچھ کسی ہدایت کے تحت کیا لیکن اسی دوران بھارت کے سابق کپتان روہیت شرما پاکستانی لیجنڈ وسیم اکرم کے ساتھ گلے ملتے دیکھے گئے اور یہ منظر کیمرے کی آنکھ نے بھی محفوظ کیا۔ یہ ایک اشارہ تھا جو دو انسانوں کے ایک دوسرے کے گرمجوشی اور بھروسے کے جذبے کو ظاہر کررہا تھا۔״

یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ حالات ایسے ہی رہیں گے؟ دو طرفہ میچز نہ ہونے کے باوجود جو آف دی فیلڈ بھی گرم جوشی اور دوستیاں تھیں کیا وہ اب دوبارہ دیکھنے کو ملیں گی؟

پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان جنگیں بھی ہوئی ہیں لیکن کرکٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا تو اب ایسا کیا ہوا ہے کہ یہ فاصلے بڑھ گئے ہیں؟

کیا سیاست دانوں اور سیاست کا کرکٹ پر کنٹرول زیادہ بڑھ گیا ہے؟

سینئر صحافی شاردا اوگرا بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں:

״ سیاست دانوں کا کرکٹ پر کنٹرول پہلے سے بڑھ گیا ہے اور انہوں نے کرکٹ کو جیسے ایک ہتھیار یا ذریعہ بنالیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے حلقہ انتخاب میں اور اپنے سپورٹرز کو اپنے محب وطن اور دیش بھگتی ہونے کا یقین دلانے لگتے ہیں اور انہوں نے کرکٹرز کو جیسے کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اس طرح کی صورتحال ہم نے ٹورنامنٹس کے دوران پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔״

شاردا اوگرا پاکستان اور بھارت کو آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ایک ہی گروپ میں رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔

وہ کہتی ہیں:

״ یہ سب کچھ مصنوعی ہے۔ فیئر نہیں ہے۔ یہ سب کچھ براڈ کاسٹرز کا سوچ کر ہورہا ہے کیونکہ براڈ کاسٹر کہتا ہے کہ اس کے بغیر ہماری دکان چل ہی نہیں سکتی۔ اسوقت پیسے اور ریونیو کے بارے میں زیادہ سوچا جارہا ہے، کھیل اور فیئر کمپیٹیشن کے بارے میں نہیں سوچا جارہا۔ اگر بھارت اور پاکستان کو الگ گروپ میں رکھ کر پیسہ نہیں کمایا جاسکتا تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا دماغ کتنا کمزور ہے اور آپ کی مارکیٹنگ مہارت کتنی کمزور ہے۔ بھارت اور پاکستان کا سیاسی معاملہ ایک طرف لیکن اگر کرکٹ کی بات کریں تو اسے آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ نہیں کہ آپ ہر آئی سی سی ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں رکھ دیں یہاں تک کہ آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں بھی۔״

تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں:

״ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ اتارچڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے کرکٹ اس کی براہ راست زد میں آئی ہے اور اس میں بہت زیادہ شدت دیکھی گئی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اسوقت اتنی زیادہ اچھی نہیں ہے لیکن آئی سی سی کے اکنامک سسٹم میں اس کی موجودگی بہت مضبوط ہے جس کا ثبوت آئی سی سی ٹورنامنٹس میں دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچوں کے فنانشل اور ڈیجیٹل ویورشپ کے اعدادوشمار ہیں اور یہ بات آئی سی سی کو بھی پتہ ہے کہ ان میچوں سے کتنا زیادہ ریونیو آتا ہے۔ اب یہ ایڈمنسٹریٹرز کی گیم نہیں رہی بلکہ براڈکاسٹرز کی گیم بن چکی ہے۔״

لتا منگیشکر
حنیف محمد۔
انضمام الحق اور سارو گنگولی

گئے دنوں کی خوبصورت یادیں

آج جب ہم بھارت پاکستان کرکٹ سے جڑے چند واقعات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ گئے دنوں کی یہ یادیں واقعی بہت خوبصورت ہیں۔

2004 میں جب بھارتی ٹیم سارو گنگولی کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر روانہ ہورہی تھی تو وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے خاص طور پر اپنے کھلاڑیوں سے یہ بات کہی تھی کہ آپ نے صرف میچ ہی نہیں جیتنے بلکہ دل بھی جیتنے ہیں۔

وہ دورہ پاک بھارت کرکٹ کی تاریخ کا یادگار ترین دورہ سمجھا جاتا ہے جس میں بھارت سے محمد علی جناح کی بیٹی دینا واڈیا، ان کے بیٹے نسلی واڈیا، راہول گاندھی، پریانکا گاندھی، جے پور کی مہارانی اور کئی دوسری اہم شخصیات میچ دیکھنے پاکستان آئی تھیں۔

یہ وہی دورہ ہے جس کے اختتام پر پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر شیو شنکر مینن نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان سے کہا تھا:

״ ہم نے 20 ہزار بھارتی کرکٹ شائقین پاکستان بھیجے تھے، آپ نے اپنی مہمان نوازی سے ان بیس ہزار کو پاکستانی سفیر بناکر واپس بھارت بھیجا۔״

پھر 2006 میں بھارتی ٹیم کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے وہ دلچسپ کمنٹس بھلا کون بھول سکتا ہے جو انہوں نے مہندر سنگھ دھونی کے لمبے بالوں کے بارے میں لاہور کے ون ڈے کے اختتام پر کہے تھے کہ:

״ آپ اس ہیئر اسٹائل میں بہت اچھے لگتے ہیں لہذا آپ ہیئر کٹنگ مت کرانا۔״

کرکٹرز میدان میں مصروف تو شائقین کے درمیان اسٹینڈز میں فقرے بازی زوروں پر لیکن چاچا کرکٹ صوفی جلیل اور سدھیر کمار گوتم (سچن) کسی تلخی کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ محبت بھرے انداز میں اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کرتے نظر آئے ہیں۔

میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ گرما گرمی کے باوجود شعیب اختر اور ہربھجن سنگھ کپل شرما شو میں ایک ساتھ بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے رہے ہیں۔

میدان میں وریندر سہواگ نے چاہے پاکستانی بولرز کی کتنی ہی پٹائی کی ہو لیکن کسی ٹاک شو میں بیٹھ کر انہوں نے اپنے بڑے پن کا ثبوت انضمام الحق کی تعریف کرتے ہوئے کیا کہ انضمام الحق سے بڑا مڈل آرڈر بیٹسمین ایشیا میں پیدا نہیں ہوا۔

اور یہی انضمام الحق ایک انڈین شو میں سارو گنگولی کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب وہ انڈیا پاکستان سیریز کا کمرشل شوٹ کرنے انڈیا آئے تھے تو وہ ٹھہرے تو ہوٹل میں تھے لیکن سارو گنگولی کی محبت کہ وہ اپنے گھر سے ان کے لیے کھانے بھجواتے تھے۔

نوجوت سنگھ سدھو ایک سے زائد بار پاکستان آچکے ہیں۔ آخری بار وہ بابا گرونانک کی پیدائش کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لیے گردوارہ دربار صاحب کرتار پور آئے تھے تو پاکستان سے اپنی محبت کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے تھے۔

سنیل گاوسکر کی بذلہ سنجی سے سب اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ جب بھی کسی محفل یا شو میں بیٹھ کر جاوید میانداد کے بارے میں انہی کی آواز میں چٹکلے سناتے ہیں تو ہنسی روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔

کرکٹ اور شو بز کا پرانا تعلق۔
پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر محسن خان نے نہ صرف بھارتی اداکارہ رینا روئے سے شادی کی بلکہ بالی ووڈ میں بھی قدم رکھا ان کی پہلی فلم بٹوارہ تھی جس میں وہ بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئے تھے۔
لتا منگیشکر کی حنیف محمد سے ملاقات۔
یہ 61-1960میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورۂ بھارت کا ذکر ہے جب لٹل ماسٹر حنیف محمد ممبئی ٹیسٹ میں جانے کی تیاری کررہے تھے کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کرکٹ کلب آف انڈیا میں جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے لتا منگیشکر ان سے ملنے آگئیں اور انہیں یہ کہہ کر حیران کردیا کہ وہ ان کی بہت بڑی مداح ہیں۔
لتامنگیشکر نے اگلے دن حنیف محمد کی والدہ اور فیملی کے دیگر ارکان کو اسٹوڈیو مدعو بھی کیا جہاں وہ محمد رفیع کے ساتھ ایک گانے کی ریکارڈنگ کررہی تھیں۔ محبت اور خلوص کا انداز دیکھیے کہ جب حنیف محمد کی والدہ اسٹوڈیو پہنچیں تو لتا منگیشکر خود مرکزی دروازے پر انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھیں اور ناریل توڑ کر روایتی انداز سے انہیں خوش آمدید کہا۔
دلیپ کمار کی اصلاح الدین سے دیرینہ دوستی۔
1974 میں ایشین گیمز کے بعد ایشین ہاکی الیون نے جب بھارت کا دورہ کیا تو دلیپ کمار نے اصلاح الدین اور دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے گھر ڈنر پر مدعو کیا جس کے بعد اصلاح الدین اور دلیپ کمار میں گہری دوستی ہوگئی تھی۔دلیپ کمار کو پاکستانی کینو( اورنجز ) بہت پسند تھے چنانچہ ان کی فرمائش پر اصلاح الدین خاص طور پر انہیں پاکستان سے کینو بھجوایا کرتے تھے۔
سابق ہاکی اولمپئن سمیع اللہ کہتے ہیں کہ بھارت کے دورے میں ہمیں فلم برننگ ٹرین کی شوٹنگ دیکھنے کا موقع بھی ملا تھا۔
سابق بھارتی کپتان اجیت پال سنگھ آج بھی پاکستان کے سابق کپتان رشید جونیئر کے ساتھ دوستی کا ذکر ُپرجوش انداز میں کرتے ہیں کہ میدان میں ایک دوسرے کا لحاظ نہیں لیکن میچ کے بعد ساتھ کھانا پینا اور گھومنا پھرنا۔
پاکستانی ٹیم 80-1979 میں بھارت کے دورے پر تھی تو اس دوران بالی ووڈ کی پارٹیوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت شہ سرخیوں میں رہی تھی۔اس دورے میں عمران خان سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
وریندر سہواگ پاکستان کے دورے میں اپنے گھر والوں کے لیے شاپنگ کرنے گئے تو دکاندار نے یہ کہہ کر انہیں حیران کردیا کہ مہمانوں سے بھی کوئی پیسے لیتا ہے۔اسی طرح 1982 میں ممبئی میں منعقدہ ورلڈ کپ کے موقع پر مایہ ناز ہاکی کھلاڑی حسن سردار کی یادیں بتاتی ہیں کہ دکانیں عام طور پر گیارہ بجے کھلتی ہیں لیکن جب دکانداروں کو پتہ چلا کہ ہماری فلائٹ دوپہر کی ہے اور ہم نے شاپنگ کرنی ہے تو انہوں نے اپنی دکانیں صبح جلدی کھول دی تھیں۔
سرحد پار دوستی کی ایک اور مثال بشن سنگھ بیدی اور انتخاب عالم کی کرتارپور میں ملاقات تھی اور وہ بھی ایک جذباتی منظر تھا جب دو گہرے دوست 9 سال بعد ایک دوسرے سے ملے تھے اور جھپی ڈالتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ اس موقع پر انتخاب عالم نے اپنی مخصوص حس مزاح کے ساتھ لطیفے اور امریکی گلوکار لوئی آمسٹرانگ کی نقل کرتے ہوئے گانا گایا تو بشن سنگھ بیدی اپنی ہنسی نہیں روک پائے تھے حالانکہ وہ اس وقت بیمار تھے اور وہیل چیئر پر ایک دن کے ویزے پر کرتار پور آئے تھے۔ ان کی بیگم نے انتخاب عالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخاب بھائی ہم نے آپ کی بہت تعریف سن رکھی ہے کہ آپ اس امریکی گلوکار کی خوب نقل کرلیتے ہیں آج آپ نے بیدی صاحب کو ہنسادیا ہے۔
1947 میں تقسیم ہند کے بعد بھارتی شوبزنس کی دنیا کے کئی بڑے نام ان یادوں کو ہمیشہ یاد کرتے رہے ہیں جو ان علاقوں سے جڑی ہوئی ہیں جو اب پاکستان میں ہیں۔ مثلاً راج کپور اور دلیپ کمار اپنی جنم بھومی پشاور کا ذکر بڑے پیار سے کرتے تھے۔ سنیل دت کی پیدائش جہلم کے ایک گاؤں کی تھی ۔دیو آنند کی پیدائش نارووال ضلع کی تھی جبکہ گلزار صاحب بھی دینہ ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔
یہ تمام لوگ جب بھی اپنی جنم بھومی کا ذکر کرتے ان کے چہروں پر خوشی کی عجیب سی لہر واضح طور پر دیکھی جاتی تھی۔
یہ تو ماضی کی خوبصورت یادیں ہیں لیکن زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کہ یہی کھلاڑی جو اب ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں کچھ عرصہ پہلے تک ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک تھے۔شاہین آفریدی نے جسپرت بمرا کو بیٹے کی پیدائش کی مبارک باد دیتے ہوئے تحفہ پیش کیا تھا ۔
2016کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایڈن گارڈنز میں میچ سے قبل وارم اپ ہورہی تھیں تو وراٹ کوہلی نے پاکستان ٹیم کے پریکٹس ایریا میں آکر فاسٹ بولر محمد عامر کو اپنا بیٹ تحفے میں دیا تھا جس کی فرمائش عامر نے ایشیا کپ کے موقع پر کی تھی۔
صرف کرکٹ ہی نہیں یہ دوستی ٹینس میں بھی دیکھی گئی۔ پاکستان کے اعصام الحق اور بھارت کے روہن بوپنا کی جوڑی بہت مشہور رہی ہے یہ دونوں کافی عرصہ ایک ساتھ کھیلتے رہے تھے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ بورڈ کی سطح پر بھی اچھے تعلقات قائم تھے۔ وہ چاہے پاکستان سے ائرمارشل نورخان ہوں ، لیفٹننٹ جنرل توقیر ضیا ہوں یا شہریارخان اور بھارت سے این کے پی سالوے ہوں یا جگ موہن ڈالمیا ہوں یا پھر راج سنگھ ڈونگرپور، ایشین بلاک ایک پیج پر تھا اور کرکٹ کی دنیا میں اس کی آواز بہت مؤثر ہوا کرتی تھی۔
بھارت کے سینئر صحافی سندیپ دویویدی نے انڈین ایکسپریس میں اپنے مضمون میں ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے ״بدقسمتی سے کچھ پرانے رشتے ٹوٹ گئے ، طرز فکر بدل گئی ۔ ماضی میں پڑوسیوں کے درمیان جنگیں اور اختلافات رہے ۔ سیاست دان اور فوجی ، بورڈز کی قیادت کرچکے تھے لیکن وہ کھیل کے ساتھ پرعزم رہے اور کبھی بھی کرکٹ کے دروازے کو جذباتی طور پر بند کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن اب ترجیحات بدل گئی ہیں״۔

Picture of Abdul Rasheed Shakoor

Abdul Rasheed Shakoor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے