پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم 10 ویں آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز اتوار 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن میں کرنے والی ہے لیکن ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس سے عالمی کپ میں بہت زیادہ توقعات وابستہ نہ رکھی جائیں اس کی ایک وجہ اس کی اپنی موجودہ کارکردگی اور دوسری وجہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کا سخت گروپ ہے۔
پاکستان ویمنز ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ اے میں ہے جس میں اس کے ساتھ چھ بار کی عالمی چیمپئن اور عالمی نمبر ایک آسٹریلیا۔ عالمی نمبر 3 بھارت۔ عالمی نمبر 5 جنوبی افریقہ ۔ عالمی نمبر 10 بنگلہ دیش اور عالمی نمبر14 ہالینڈ کی ٹیمیں شامل ہیں۔
پاکستان ویمنز ٹیم کی اسوقت عالمی رینکنگ آٹھویں ہے۔پاکستان ٹیم کی قیادت فاطمہ ثنا کررہی ہیں جن کا بحیثیت کپتان یہ دوسرا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے۔
اہم کھلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی
جہانتک پاکستان ٹیم کی موجودہ کارکردگی کا تعلق ہے تو اس نے حال ہی میں عالمی رینکنگ میں 16 ویں نمبر کی ٹیم زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دونوں میں کلین سوئپ کیا تھا لیکن یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ زمبابوے کی ٹیم اپنی متعدد اہم کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم تھی اور ایک ناتجربہ کار ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی جس کے خلاف پاکستان ٹیم نے کئی نئے ریکارڈز بھی قائم کیے جن میں فاطمہ ثنا کی پندرہ گیندوں پر ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری۔ عائشہ ظفر کی پاکستان کی طرف سے تیز ترین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سنچری اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 237 رنز کا ریکارڈ اسکور قابل ذکر ہیں۔
اس سیریز نے یقیناً پاکستانی کھلاڑیوں کو اعتماد دیا لیکن جب وہ قدرے بہتر حریف ٹیموں کے سامنے آئیں تو اس طرح کی کارکردگی نہ دکھاسکیں۔ آئرلینڈ میں سہ فریقی سیریز میں پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ دونوں سے ہاری یہانتکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ہونے والے دونوں وارم اپ میچوں میں بھی اسے سری لنکا کے خلاف 9 وکٹوں سے اور اسکاٹ لینڈ سے 41 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ان دونوں میچوں میں پاکستان ٹیم کی بیٹنگ بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں کارکردگی خاصی مایوس کن رہی جو اس لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ ورلڈ کپ جیسا سخت امتحان سر پر ہے۔
پاکستان ویمنز ٹیم جن سینئر کھلاڑیوں پر بہت زیادہ بھروسہ کرتی آرہی ہے ان میں کپتان فاطمہ ثنا۔ عالیہ ریاض ۔منبیہ علی۔سعدیہ اقبال۔ نشرہ سندھو اور ڈیانا بیگ شامل ہیں۔ان میں فاطمہ ثنا تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھاتی آرہی ہیں لیکن عالیہ ریاض دو سال سے ایک بھی نصف سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں اسی طرح منیبہ علی گزشتہ سال آئرلینڈ کے خلاف سنچری کے بعد سے آف کلر ہیں اور اس عرصے میں وہ صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔
پاکستان ٹیم زیادہ تر اپنی اسپنرز سے کامیابی حاصل کرتی رہی ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ انگلش کنڈیشنز میں اسپنرز کتنی کامیاب ہوتی ہیں؟۔
سب سے حیران کن سلیکشن 34 سالہ ارم جاوید کا ہے جو 13 سال سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہی ہیں اور 60 میچوں میں صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والی بیٹرز میں چوتھے نمبر پر رہی تھیں ۔ ٹیم میں دو نئی کھلاڑیوں ایمان فاطمہ اور سائرہ جبین کی موجودگی میں ارم جاوید کو ایڈجسٹ کرنا بھی ٹیم منیجمنٹ کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے اور پھر سب سے اہم خود ارم جاوید کی غیرتسلی بخش کارکردگی۔
عالمی کپ میں پاکستان کا ریکارڈ اچھا نہیں۔
پاکستان ویمنز کا آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔اس نے تمام 9 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرتے ہوئے ابتک 36 میچز کھیلے ہیں جن میں سے صرف 9 جیتے ہیں 26 میں اسے شکست ہوئی ہے اور ایک میچ نامکمل رہا ہے۔
پاکستان ویمنز ٹیم ابتک کسی بھی ٹورنامنٹ میں گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔اس کی سب سے اچھی کارکردگی 2014 اور 2016میں رہی تھی جب اس نے دو دو میچز جیتے تھے۔2014 میں اس نے آئرلینڈ کو14 رنز سے اور سری لنکا کو بھی 14 رنز سے ہرایا تھا۔ 2016 میں اس نے بھارت کو 2 رنز سے اور بنگلہ دیش کو9 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
پاکستان ویمنز ٹیم 2012 میں بھی بھارت کو ایک رن سے شکست دے چکی ہے۔
پاکستان ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ فاطمہ ثنا ( کپتان ) منیبہ علی۔گل فیروزہ۔ سائرہ جبین۔ ارم جاوید۔ عائشہ ظفر۔نتالیہ پرویز۔ عالیہ ریاض۔ ڈیانا بیگ۔ سعدیہ اقبال۔ نشرہ سندھو۔رامین شمیم۔ ایمان فاطمہ ۔ طوبٰی حسن اور تسمیہ رباب۔








