کچھ کھلاڑی واقعی قسمت کے دھنی ہوتے ہیں اور ان پر قدرت کا نظام مہربان ہوتا ہے کیونکہ ان کا سلیکشن دور دور تک نظر نہیں آرہا ہوتا لیکن دور دور ہوتے ہوئے بھی وہ پھر اچانک ٹیم میں آجاتے ہیں۔
شاداب خان نے بھی اسی طرح کی خوش قسمتی پائی ہے ورنہ ڈھائی سال بعد ان کا ون ڈے انٹرنیشنل ٹیم میں سلیکشن کیسے ہوجاتا ؟۔
شاداب خان اس سولہ رکنی پاکستان اسکواڈ میں شامل کیے گئے ہیں جسے آسٹریلیا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔ پہلا میچ 30 مئی کو راولپنڈی میں ہوگا جبکہ بقیہ دو میچز 2 اور 4جون کو لاہور میں ہونگے
شاداب خان کا سلیکشن اس لیے حیران کن اور سمجھ میں نہ آنے والا ہے کہ نومبر 2023 میں بھارت میں ہونے والے آئی سی سی مینز ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے بعد سے وہ مسلسل ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر تھے۔ اس وقت سے تاحال وہ صرف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہے تھے لیکن اس تمام عرصے میں ان کی ون ڈے اسکواڈ میں واپسی کی باتیں ہوتی رہی تھیں لیکن یہی ایک سوال پر آکر بات ٹھہر جاتی کہ اگر وہ ون ڈے ٹیم کا حصہ بنیں گے تو کس کارکردگی کی بنیاد پر ؟ لیکن پاکستان ٹیم کا سلیکشن ہمیشہ سے چونکادینے والا ہی رہا ہے کسی کی انٹری کی وجہ سے اور کسی کو ڈراپ کرنے کی وجہ سے۔
ورلڈ کپ 2023 میں مایوس کن کارکردگی
آئیے پہلے شاداب خان کی 2023 کے ورلڈ کپ میں کارکردگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔اس ورلڈ کپ میں شاداب خان کی کارکردگی کچھ اسطرح رہی تھی ۔
بمقابلہ ہالینڈ 45 رنز دے کر ایک وکٹ۔بمقابلہ سری لنکا 55 رنز دے کر ایک وکٹ۔بمقابلہ بھارت 31 رنز پر کوئی وکٹ نہیں۔ بمقابلہ افغانستان 49 رنز پر کوئی وکٹ نہیں۔ بمقابلہ انگلینڈ 57 رنز پر کوئی وکٹ نہیں۔جنوبی افریقہ کے خلاف بولنگ نہیں کی۔
مطلب یہ کہ ان پانچ میچوں کی بولنگ میں شاداب نے 118.50 کی اوسط سے صرف 2 وکٹیں حاصل کیں۔ جی ہاں یہ بولنگ اوسط ہے جو بظاہر بیٹنگ اوسط معلوم ہورہی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انہوں نے ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں مایوس کن کارکردگی دکھائی ۔ 2019 کے عالمی کپ میں بھی وہ 34.55 کی اوسط سے صرف 9 وکٹیں حاصل کرپائے تھے۔
2023 کے عالمی کپ کےبعد سے شاداب خان اگرچہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہے تھے لیکن اس میں بھی ان کی کارکردگی قابل ذکر نہیں رہی تھی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ 32میچوں میں 36 کی اوسط سے صرف19 وکٹیں حاصل کرپائے اور ان 32 میچوں میں سے بھی 16 میچز وہ ہیں جن میں انہیں ایک بھی وکٹ نہیں ملی ۔
یہ بات یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ون ڈے اسکواڈ میں ان کا سلیکشن صرف اور صرف پی ایس ایل کی کارکردگی پر ہوا ہے جس میں انہوں نے 17 وکٹیں حاصل کی تھیں کیونکہ ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ میں بھی ان کی طرف کوئی زبردست کارکردگی نظر نہیں آئی ۔
شاداب خان ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ پریذیڈنٹ کپ بھی آخری مرتبہ 2024میں کھیلے تھے جس میں غنی گلاس کی طرف سے کھیلتے ہوئے وہ 45 کی بھاری اوسط سے صرف 9وکٹیں حاصل کرپائے تھے۔
شاداب خان کسی زمانے میں پاکستان وائٹ بال ٹیم کے قابل بھروسہ کھلاڑی تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بولنگ غیرمؤثر ہوتی چلی گئی اور انہوں نے اس کمی کو اپنی بیٹنگ سے پورا کرنا شروع کیا لیکن ٹیم ان سے بولنگ میں جو تقاضہ کرتی تھی اس میں وہ پورا نہیں اتر پائے جیسا کہ بڑے ٹورنامنٹس میں ان کے اعداد وشمار تمام کہانی بیان کردیتے ہیں۔
ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2023 کے عالمی کپ کے بعد سے ابتک یعنی مئی 2026 تک شاداب خان ون ڈے سے باہر رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا تھنک ٹینک انہیں ان کی مایوس کن کارکردگی کے سبب ون ڈے پلان کا حصہ نہیں سمجھ رہا تھا لیکن اب اچانک ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور سلیکٹرز کو ان کی یاد کیوں آگئی؟۔ اس کا تو مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ انہیں مسلسل تیسرے آئی سی سی ورلڈ کپ میں کھلانے کا ارادہ ہے۔
پچھلے دو عالمی کپ کی مایوس کن کارکردگی کے بعد بھی اگر شاداب خان کو دوبارہ ون ڈے میں لاکر اگلے ورلڈ کپ میں کھلانے کا سوچا جارہا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا تھنک ٹینک پھر وہی آزمائے ہوئے کھلاڑیوں کی طرف دیکھ رہا ہے حالانکہ اس کے پاس مزید آپشنز موجود ہیں۔
شاداب خان کو ٹیم میں سلیکٹ کرنے یا ایڈجسٹ کرنے کی وجہ سے نوجوان لیگ اسپنر سعد مسعود کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جنہیں بنگلہ دیش کے ون ڈے ٹور پر سلیکٹ کیا گیا تھا اور وہ آخری ون ڈے کھیلے تھے لیکن صرف ایک میچ کے بعد ہی وہ ڈراپ کردیے گئے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سیریز میں کسی کھلاڑی کو بلند بانگ دعوے کے ساتھ لا یا جاتا ہے اور پھر ایک دو میچوں کے بعد وہ باہر اور اگلی سیریز یا دورے میں کوئی نیا چہرہ اسی بلند بانگ دعوے کے ساتھ نظر آتا ہے۔ سلیکشن کا یہ میوزیکل چیئر گیم کھیلنے والے اور کھلانے والوں کے لیے اب نیا نہیں رہا ہے۔








