کج شہر کے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی ۔
آپ بھی سوچیں گے کہ مجھے اس وقت منیر نیازی کا یہ شعر کیوں یاد آگیا تو یہ بلا سبب نہیں ہے۔
جب آپ کے سامنے احمد شہزاد اور عمراکمل جیسے کرکٹرز موجود ہوں تو پھر یہی شعر پڑھنے کو دل کرتا ہے۔
احمد شہزاد اور جذباتی منظر
پہلے احمد شہزاد کی بات کرلیں۔ گزشتہ دنوں وہ جیو کے لائیو شو میں خاصے جذباتی نظر آئے اور پی ایس ایل میں منتخب نہ ہونے پر رونے لگے۔
وہ کہنے لگے کہ مجھے سب سے بڑا دکھ اس بات کا ہے کہ میرا بیٹا مجھے کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔
ہمیں احمد شہزاد سے دلی ہمدردی ہے کہ ان کا بیٹا اب انہیں کھیلتے ہوئے نہیں دیکھ پارہا ہے لیکن یہاں کچھ سوالات بھی ذہن میں آرہے ہیں جن کے جوابات احمد شہزاد ہی دے سکتے ہیں۔
پہلا سوال تو یہی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ احمد شہزاد کرکٹ نہیں کھیل پارہے ہیں ؟۔
اسٹوڈیو میں بیٹھ کر دوسروں پر تنقید
اگر ہم احمد شہزاد کے کریئر پر نظر ڈالیں تو وہ 2024 کے بعد سے کسی قسم کی کرکٹ نہیں کھیلے ہیں۔
2024 میں انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپڈا کی نمائندگی کی تھی اور 6 اننگز میں 3 نصف سنچریاں بنائی تھیں جبکہ اسی سال وہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ بھی کھیلے تھے لیکن اس میں ان کی پرفارمنس قابل ذکر نہیں رہی تھی اور وہ 8 میچوں میں صرف ایک نصف سنچری کی مدد سے 173 رنز ہی بنانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔
احمد شہزاد پچھلے کچھ عرصے سے جیو ٹی وی پر تبصرے کرتے نظرآ رہے ہیں اور خاصے جوشیلے انداز میں وہ بات کررہے ہوتے ہیں۔
ان تمام تبصروں میں جن میں ان کے ساتھ فاسٹ بولر محمد عامر بھی شریک رہے ہیں ان کا ٹارگٹ بابراعظم ہی رہے ہیں۔
کسی سیاست دان کی طرح ہاتھ میں کاغذ لہراتے ہوئے انہوں نے بابراعظم پر تنقید کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں دیا ہے۔
اگر احمد شہزاد اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کرکٹ باقی ہے تو اسٹوڈیو میں بیٹھھ کر آنسو بہاکر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ وہ تجزیہ کار بننے کے بجائے میدان میں اتریں اور پرفارم کرکے خود کو سلیکشن کا اہل بنائیں۔
احمد شہزاد کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ان آنسوؤں کے بعد پروگرام کی ریٹنگ تو بڑھ گئی ہوگی لیکن کسی بھی کرکٹر کی ریٹنگ صرف اور صرف اس کی میدان میں پرفارمنس سے بڑھتی ہے۔
بابراعظم کے والد کی نیک خواہشات
احمد شہزاد کی اس جذباتی وڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد بابراعظم کے والد اعظم صدیق نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر احمد شہزاد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے حالانکہ انہیں بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ احمد شہزاد ان کے بیٹے (بابراعظم) کے بارے میں کس طرح کی منفی باتیں کرتے آئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایک باپ کا درد محسوس کیا ہے کہ احمد شہزاد کا بیٹا اس وقت کیا احساسات رکھے ہوئے ہے۔
اعظم صدیق نے لکھا ہے کہ:
آج ایک باپ کی بیٹے کے سامنے بے بسی دیکھ کر میرا دل بہت رنجیدہ ہا کیونکہ میں بھی کئی بار ان مراحل سے گزرا ہوں۔
انہوں نے احمد شہزاد کے لیے نیک خواہشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
آپ اپنے بیٹے کے لیے محنت ، جنگ سمجھ کر کریں کیونکہ آپ میں ابھی کرکٹ باقی ہے۔
انشاء اللہ آپ پر دروازے دوبارہ کھلیں گے۔
میرے دل سے نکلے ہوئے الفاظ کو کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔
تمام فرنچائزز کی عمراکمل میں عدم دلچسپی
اب کچھ ذکر عمر اکمل کا ہوجائے۔
گزشتہ دنوں ٹی وی چینل پر باسط علی اور کامران اکمل نے عمراکمل کا نام پی ایس ایل کے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل نہ ہونے پر بورڈ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ کوئی فرنچائز عمراکمل کو لیتی یا نہ لیتی وہ بعد کی بات ہے لیکن ان کا نام لسٹ میں ضرور ہونا چاہیے تھا۔
یہاں میں بڑی ذمہ داری سے یہ بات تحریر کررہا ہوں جو مجھے اپنے انتہائی مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوئی ہے کہ عمراکمل کا نام پی ایس ایل کی نیلامی میں شامل 879 کھلاڑیوں کی فہرست میں بالکل شامل تھا۔
یہ فہرست تمام آٹھوں فرنچائزز کو بھیجی گئی تھی اور ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ ان کھلاڑیوں کے بارے میں بتادیں جن کے لیے آپ نیلامی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کسی ایک فرنچائز نے بھی عمراکمل میں دلچسپی ظاہر نہیں کی لہذا ان کا نام نیلامی میں نظر نہیں آیا حالانکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کا نام 879 کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا ہوا تھا۔
اپنے کریئر سے ناانصافی
عمراکمل بھی احمد شہزاد کی طرح 2024 کے بعد سے ڈومیسٹک کرکٹ نہیں کھیلے ہیں۔
جہانتک فرنچائز کرکٹ کی بات ہے تو وہ آخری بار 2023 میں پاکستان سپر لیگ کھیلے تھے جس کے 6 میچوں میں وہ کوئی نصف سنچری نہیں بناسکے تھے۔
وہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری بناکر اپنے روشن مستقبل کی نوید سنادی تھی لیکن سب کو پتہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کا پورا کریئر تنازعات سے بھرا رہا اور وہ ایک کے بعد ایک تنازع میں نظر آتے گئے۔
کبھی ہیڈ کوچ وقار یونس نے ان کے اور احمد شہزاد کے بارے میں منفی رپورٹ دی تو کبھی دوسرے کوچز بھی ان کے طرز عمل سے پریشان رہے۔
اگر وقار یونس کو ایک طرف رکھ بھی دیں تو مکی آرتھر اور برینڈن مک کلم بھی عمراکمل سے ناخوش رہے تھے۔
لاہور قلندرز کی طرف سے کھیلتے ہوئے مک کلم نے عمراکمل کو ایک پیچیدہ شخص قرار دیا تھا۔
لاہور قلندرز نے عمراکمل کو ان کے غیرسنجیدہ رویے کے سبب بنچ سے ہی ہٹادیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی دیگر کئی واقعات میں عمراکمل شہ سرخیوں میں آکر اپنے کریئر کو خود نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔
ان واقعات کی فہرست مختصر نہیں ہے۔
عمر اکمل کے کریئر کے اعدادوشمار بہت متاثرکن ہیں اور اس بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کہ وہ خداداد صلاحیتوں کے مالک کرکٹر تھے لیکن تنازعات کا شکار ہوکر وہ اپنے کریئر سے انصاف نہیں کرپائے۔








