main0image

کیا پی ایس ایل افغان کرکٹرز کے بغیر ممکن نہیں ؟

عبدالرشید شکور۔

main0image

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا معاملہ ابھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اسی دوران ایک اور خبر نے شہ سرخیوں میں جگہ بنالی ہے اور وہ ہے پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی جانب سے افغان کرکٹر رحمن اللہ گرباز کو ڈائریکٹ سائن کرنا۔

پشاور زلمی کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے فوراً بعد ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر شدید ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا اور اس سلسلے میں پشاور زلمی پر سخت تنقید ہونے لگی۔ یہاں تک کہ پشاور زلمی کے اپنے حامی پرستار بھی سخت ناراض دکھائی دیتے ہیں اور فرنچائز کے بائیکاٹ تک کی باتیں کررہے ہیں۔

Rashid khan
Rashid khan tweet

شدید ردعمل کا سبب کیا ہے؟

افغان وکٹ کیپر بیٹسمین رحمن اللہ گرباز کو پشاور زلمی میں شامل کیے جانے پر سامنے آنے والا شدید ردعمل بلاسبب نہیں ہے۔ اس کی معقول وجہ موجود ہے اور وہ ہے افغان کرکٹرز کے پاکستان مخالف بیانات، جو آج بھی ان کے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹس پر موجود ہیں، جن میں راشد خان اور خود رحمن اللہ گرباز قابل ذکر ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں افغانستان نے پاکستان پر فضائی حملوں میں مبینہ طور پر تین افغان کرکٹرز کی ہلاکت کا الزام لگایا تھا اور اس نے نومبر میں پاکستان کے خلاف سہ فریقی سیریز کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے فوراً بعد راشد خان اور رحمن اللہ گرباز نے انتہائی سخت الفاظ میں پاکستان مخالف ٹوئٹس کیے تھے۔

Rahman ullah gurbaz
Gurbaz tweet

آئی سی سی کا متنازع کردار

اس تمام تر صورتحال کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھی اس معاملے میں کود پڑی تھی اور اس نے کسی غیرجانبدار اور آزاد ذریعے سے تصدیق کیے بغیر ان کلب کرکٹرز کی مبینہ ہلاکت کا مذمتی بیان بھی جاری کردیا تھا۔

اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت آئی سی سی عملاً بی سی سی آئی کا ذیلی ادارہ بن چکی ہے، کیونکہ جو بی سی سی آئی کے کرتا دھرتا ہیں وہی آئی سی سی کے بھی کرتا دھرتا ہیں، یعنی جے شاہ — جو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں — اور اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ میں عملاً بی جے پی کی نفرت آمیز سیاست جے شاہ کے ذریعے سرایت کرچکی ہے۔

پاکستان کی جانب سے آئی سی سی کی مذمت

جب آئی سی سی نے بی سی سی آئی کے ساتھ مل کر افغانستان پر فضائی حملے میں تین کلب کرکٹرز کی مبینہ ہلاکت کے بارے میں افغانستان کے ساتھ یکجہتی بیان جاری کیا تو پاکستان کی حکومت نے اس پر فوراً ردعمل ظاہر کیا۔

پاکستان نے آئی سی سی کی مذمت کرتے ہوئے شہری آبادی پر فضائی حملے کے الزام کو یکسر مسترد کردیا اور یہ بات واضح کی کہ بغیر کسی تصدیق کے اس طرح کا جلدبازی میں بیان کیسے جاری کیا گیا۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا تھا:

"پاکستان جو سرحد پار دہشت گردی کا ایک اہم شکار ہے، آئی سی سی کے منتخب کردہ جانبدار اور قبل از وقت تبصرے کو مسترد کرتا ہے جو ایک متنازعہ الزام میں اضافہ کررہا ہے۔”

بھارت سے محبت، پاکستان سے نفرت

افغانستان کے کرکٹرز کی اکثریت پاکستان میں پلی بڑھی ہے بلکہ چند ایک کے بارے میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ یہیں پیدا ہوئے تھے۔
کچھ نے پشاور کی شہری زندگی کے مزے لوٹے ہیں اور کچھ نے افغان خیمہ بستیوں میں وقت گزارا ہے۔

پاکستان نے افغان کرکٹ کو قدم جمانے میں ہمیشہ مدد دی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے:

  • اپنے سابق ٹیسٹ کرکٹرز افغانستان بھیجے

  • کوچنگ سپورٹ دی

  • تکنیکی مدد فراہم کی

راشد لطیف، انضمام الحق اور کبیر خان افغانستان کی ٹیم کے کوچز رہ چکے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ افغان کرکٹرز پی ایس ایل سے پہلے بھی پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے رہے ہیں، جن میں:

  • محمد نبی

  • حامد حسین

  • رفعت اللہ مہمند
    قابل ذکر ہیں۔

لیگ اسپنر راشد خان وہ وقت بھول گئے جب وہ پشاور کے اسلامیہ کالج میں راشد ارمان کے نام سے پڑھتے رہے اور مقامی کرکٹ کھیلتے رہے۔

یہ وہی راشد خان ہیں جنہیں پی ایس ایل کے دوران لاہور قلندرز نے سر آنکھوں پر بٹھایا، مگر نفرت میں اس حد تک آگے بڑھے کہ سوشل میڈیا پروفائل سے لاہور قلندرز کا نام ہی ہٹا دیا۔

PSL-2026
Ata tarar tweet

افغان کرکٹرز اور پی ایس ایل پالیسی

پاکستان کرکٹ بورڈ یا پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے رحمن اللہ گرباز کی پشاور زلمی میں شمولیت پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق:

  • پی سی بی کی پالیسی ہے کہ سیاست اور کھیل کو الگ رکھا جائے

  • مستفیض الرحمن کے آئی پی ایل معاملے میں بھی یہی پالیسی اپنائی گئی

  • اسی بنیاد پر افغان کرکٹرز پر پابندی نہیں لگائی گئی

جب پی ایس ایل 11 میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن شروع ہوئی تو:

  • افغان کرکٹرز کی شرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی

  • فرنچائزز کو واضح طور پر بتایا گیا کہ افغان کھلاڑیوں پر کوئی ممانعت نہیں

آخری سوال

اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ — جو چند ماہ پہلے تک پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھا —
کیا اپنے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں شرکت کے لیے این او سی جاری کرتا ہے یا نہیں؟

تاہم اس بار تعداد نہ ہونے کے برابر ہوگی۔
ممکن ہے کہ رحمن اللہ گرباز ہی پی ایس ایل کھیلنے والے واحد افغان کرکٹر ہوں۔

Picture of admin

admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے