پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کردیا

عبدالرشید شکور۔

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اتوار کے روز حکومت پاکستان نے ایکس پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔ یہ میچ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول ہے۔
یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت اور سری لنکا مشترکہ میزبان ہیں۔
پاکستان گروپ اے میں بھارت۔ ہالینڈ ۔ نمیبیا اور امریکہ کے ساتھ ہے۔
حکومت پاکستان کے اعلان کے مطابق پاکستان ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی منظوری دے دی گئی ہے لیکن ٹیم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔

بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی کوئی وجہ سرکاری بیان میں نہیں بتائی گئی ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ ان چند آپشنز میں سے ایک تھا جو گزشتہ چند روز سے پاکستان کی حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیرغور تھے۔
یہ صورتحال بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت میں سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظراپنی ٹیم نہ بھیجنے کے بعد پیدا ہوئی جس کے بعد آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے ہی باہر کردیا ۔اس موقع پر آئی سی سی میں ہونے والی ووٹنگ میں صرف پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہی بنگلہ دیش کے حق میں ووٹ دیا جبکہ دیگر تمام ممالک بشمول ایشیائی ممالک سری لنکا اور افغانستان بھی بی سی سی آئی کی جی حضوری میں لگے ہوئے تھے جو درحقیقت آئی سی سی کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے اور جس کی اصل تصویر سینئر بھارتی صحافی شاردا اوگرا نے اپنےایک حالیہ انٹرویو میں دکھادی ہے کہ آئی سی سی دراصل بی سی سی آئی کا دبئی آفس ہے۔
بنگلہ دیش کا واضح مؤقف۔
بنگلہ دیش کا مؤقف سیدھا سادہ تھا کہ اگر اس کے ایک کھلاڑی مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے نکال باہر کیاگیا ہے تو پھر ایسی صورت میں پوری بنگلہ دیشی ٹیم بھارت میں خود کو کیسے محفوظ تصور کرسکتی ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ اس کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز سری لنکا منتقل کردیے جائیں۔
آئی سی سی جس کے بارے میں اب کسی قسم کے شک وشبے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ وہ بی سی سی آئی کے زیراثر ہے اور جے شاہ نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کردیا ہے کہ جہاں اس کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور اس کے فیصلے بی جے پی حکومت کی نفرت بھری پالیسیوں کے تحت ہوتے ہیں، اس نے بنگلہ دیش کی درخواست کو سرے سے زیرغور لانے کے بجائے اپنی روایتی ہٹ دھری سے اسے عالمی مقابلے سے ہی باہر کردیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو عالمی ایونٹ میں شامل کرلیا ۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف واضح اور سیدھا سادہ تھا کہ اگر بھارتی کرکٹ ٹیم اپنی حکومت کے فیصلے کے تحت پاکستان آکر نہیں کھیلتی اور اس کے میچز نیوٹرل مقام پر منتقل کردیئے جاتے ہیں تو پھر بنگلہ دیش کے خلاف یہ ناانصافی کیوں ؟۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے بارے میں کسی بھی فیصلے کا کئی روز سے انتظار تھا۔ یہ فیصلہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مکمل طور پر شرکت نہ کرنے کا بھی ہوسکتا تھا اور دوسرا آپشن یہی تھا کہ شرکت کی جائے لیکن بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کردیا جائے ۔
بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہوگی۔
پاکستان کی حکومت کے اس فیصلے بعد یقیناً آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ ہل کر رہ گئے ہونگے کیونکہ یہ بات سب کو پتہ ہے کہ آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچوں کی کتنی اہمیت ہے۔ یہ میچز صرف شائقین کے نقطہ نظر سے غیرمعمولی جوش وخروش کے حامل نہیں ہیں بلکہ براڈکاسٹرز کے لیے سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کی طرح ہیں اور پاکستان کے اس فیصلے کے بعد براڈکاسٹرز اور اسپانسرز کا جو حال ہونا ہے وہ سب کو پتہ ہے۔
پاکستان اور بھارت کے یہ میچز آئی سی سی کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اسی لیے 2012 کے بعد سے ہر آئی سی سی ایونٹ میں ان دونوں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں رکھا جاتا ہے تاکہ گروپ میچ کے بعد اگلے مرحلے میں بھی ایک اور میچ کا امکان موجود رہے اور آمدنی میں اضافہ ہوسکے لیکن پاکستان کے اس فیصلے سے آئی سی سی پر بہت زبردست ضرب لگی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے براڈ کاسٹرز کی جانب سے سامنے آنے والے دباؤ کو کس طرح جھیلتی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کی صورت میں اس میچ کے پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا لیکن مبصرین اور تجزیہ کاروں کا یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا کیا سبب بتائے گا؟ ویسے تو حکومت کی اجازت سے مشروط شرکت والا نکتہ اپنی جگہ موجود ہے جسے بھارت ہمیشہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے لیکن اب صورتحال اس کے لیے بھی وہی ہے کہ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔
بی سی سی آئی کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اپنی مالی پوزیشن کے بل پر وہ ہر کرکٹ بورڈ کو اپنے تابع نہیں کرسکتا۔
افسوس تو انگلینڈ آسٹریلیا جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈز پر ہوتا ہے جو ویسے تو بڑے اصول پسند بنتے ہیں لیکن بی سی سی آئی کی مالی پوزیشن کے سامنے غلام بن جاتے ہیں۔ظاہر ہے ان کے کھلاڑی آئی پی ایل میں باقاعدگی سے کھیلتے ہیں اور ان کھلاڑیوں کی شرکت کی وجہ سے ان کے بورڈز کو بھی ایک بڑی رقم ملتی ہے تو ایسی صورت میں وہ بی سی سی آئی کو کیسے ناراض کرسکتے ہیں۔
پاکستان کے اس فیصلے سے بی سی سی آئی کے ان چہیتے صحافیوں اور سابق ٹیسٹ کرکٹرز کو بھی حقیقت کا پتہ چل گیا ہوگا جو پچھلے کئی روز سے گلے پھاڑ پھاڑ کر یہ کہتے نہیں تھک رہے تھے کہ پاکستان کسی صورت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ یا بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ اس میں یہ حوصلہ نہیں ہے۔
تو ان کو اب اندازہ ہوجانا چاہیے کہ جرات مندانہ فیصلہ کسے کہتے ہیں

Picture of admin

admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے