ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل الیون کی تشکیل کتنی مشکل؟

عبدالرشید شکور۔

پاکستان نے آسٹریلیا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 22 رنز سے شکست دے دی جو ظاہر ہے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی جانب بڑھتے ہوئے ایک خوش آئند نتیجہ ہے تاہم یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ آسٹریلوی ٹیم ٹم ڈیوڈ، مارکس اسٹوئنس، گلین میکسویل، پیٹ کمنز، جوش انگلز اور جوش ہیزل ووڈ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے بغیر یہ سیریز کھیلنے پاکستان آئی ہے اور پہلے میچ میں اس کے تین کھلاڑیوں نے اپنے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر کی ابتدا کی ہے۔
اس میچ میں پاکستان نے جو ٹیم کھلائی وہی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بھی آغاز کرتی ہوئی نظر آرہی ہے لیکن ایک مرتبہ پھر پاکستان ٹیم کی بیٹنگ موضوع بحث رہی ہے جس نے 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ ایک موقع پر اسکور صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر 86 رنز تھا لیکن پھر 6 وکٹیں اسکور میں صرف 82 رنز کا اضافہ کرپائیں۔

سلمان علی آغا کا نیا روپ

پاکستان کی اننگز میں صائم ایوب 40 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے لیکن کپتان سلمان علی آغا کی بیٹنگ اس لحاظ سے نمایاں رہی کہ انہوں نے چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 39 رنز سکور کیے اور انہوں نے یہ اننگز ون ڈاؤن پوزیشن پر آ کر کھیلی ہے۔ اس سے قبل سری لنکا کے خلاف بھی انہوں نے ون ڈاؤن پوزیشن پر بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 12 گیندوں پر 45 رنز بنائے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے سلمان علی آغا کا بیٹنگ آرڈر اب ون ڈاؤن پوزیشن پر مقرر کر دیا ہے اور وہ جس جارحانہ انداز سے اب بیٹنگ کر رہے ہیں وہ پاکستان کے نقطہ نظر سے بہت کارآمد دکھائی دے رہا ہے۔

بابراعظم اور فخرزمان کے لیے کڑی آزمائش

سلمان علی آغا کے ون ڈاؤن پر کھیلنے کی صورت میں اب بابراعظم کو چوتھے نمبر پر کھیلنا پڑ رہا ہے جبکہ فخرزمان کا نمبر بھی مزید نیچے ہو کر پانچواں ہوگیا ہے اور یہ دونوں بیٹسمین اس وقت کچھ اچھی کارکردگی بھی نہیں دکھا پا رہے ہیں۔
بابراعظم نے اس سے قبل صرف ایک مرتبہ 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے اور 2018 میں نیوزی لینڈ کے خلاف پانچویں نمبر پر بیٹنگ کی تھی جس کے بعد رضوان کے ساتھ ان کی اوپننگ جوڑی سیٹ ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے زیادہ تر تیسرے نمبر پر بیٹنگ کی ہے۔
بابراعظم اس وقت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ حالیہ بگ بیش میں بھی وہ صرف دو نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہو سکے حالانکہ ان کی بگ بیش میں شمولیت کے موقع پر شائقین اور منتظمین ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے جو ظاہر ہے پوری نہیں ہو سکیں۔
آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں چوتھے نمبر پر کھیلتے ہوئے بابراعظم نے 24 رنز بنانے کے لیے 20 گیندیں کھیلیں۔
صائم ایوب اور پھر صاحبزادہ فرحان کے اوپنر آنے کے بعد بابراعظم تو کسی نہ کسی طرح ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن اب ٹیم کی نئی حکمت عملی میں سلمان علی آغا کے ون ڈاؤن کھیلنے سے جہاں بابراعظم کو ایک نمبر مزید نیچے ہونا پڑا ہے، وہیں فخرزمان کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں رہی ہے کیونکہ اب انہیں بیٹنگ آرڈر میں پانچویں نمبر پر کھیلنا پڑ رہا ہے۔ اس تبدیل شدہ صورتحال میں ان کی کارکردگی اس طرح نہیں رہی جس کے لیے وہ شہرت رکھتے ہیں۔
زمبابوے کے خلاف راولپنڈی میں انہوں نے اگرچہ پانچویں نمبر پر کھیلتے ہوئے 44 رنز اسکور کیے تھے لیکن اس کے بعد اگلی چار اننگز میں وہ ایک مرتبہ بھی ڈبل فگرز میں نہیں آئے جبکہ ایک اننگز میں انہوں نے ساتویں نمبر پر بھی بیٹنگ کی جس میں انہوں نے 27 رنز ناٹ آؤٹ اسکور کیے تھے۔

عثمان خان کی افادیت

محمد رضوان کے ٹیم سے باہر ہونے کے بعد اگرچہ عثمان خان نے وکٹ کیپنگ گلووز سنبھال رکھے ہیں لیکن بیٹنگ میں ان کی جانب سے کوئی غیر معمولی کارکردگی سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو ان کے بیٹنگ آرڈر میں بار بار تبدیلی بھی ہے لیکن متعدد میچز ایسے بھی ہیں جن میں انہیں کھیلنے کے پورے پورے مواقع ملے تھے جو انہوں نے ضائع کیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے میچوں میں ان پر مزید کتنا اعتماد ظاہر کیا جاتا ہے یا پھر اسکواڈ میں موجود وکٹ کیپر بیٹسمین خواجہ نافع کی جانب یہ اعتماد منتقل ہو جائے گا۔
جہاں تک صاحبزادہ فرحان کا تعلق ہے تو 2025 ان کے لیے بہت کامیاب رہا تھا۔ اس سال وہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلے ہیں لیکن اس میں ان کی صرف ایک نصف سنچری رہی، جبکہ سری لنکا کے خلاف دمبولا کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نصف سنچری بنانے کے بعد وہ آسٹریلیا کے خلاف پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے ہیں۔ آنے والے میچز صاحبزادہ فرحان کے لیے بھی بہت اہم ہیں کیونکہ ایک بڑے اسکور کے لیے صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب کی اوپننگ پارٹنرشپ بڑی اہمیت کی حامل ہوگی۔

cgh3

پاکستان کا پیس اٹیک

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے جن تیز بولرز کا انتخاب کیا ہے ان میں شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، فہیم اشرف اور سلمان مرزا شامل ہیں جبکہ اسپنرز میں شاداب خان، محمد نواز، عثمان طارق اور ابرار احمد اسپیشلسٹ اسپنرز ہیں۔ ان کے علاوہ صائم ایوب اور سلمان علی آغا کا آپشن بھی موجود ہے۔
حارث رؤف کو ٹیم میں شامل نہ کرنے پر بہت زیادہ بات ہو رہی ہے۔ حارث رؤف کی حالیہ بگ بیش میں کارکردگی نمایاں رہی اور وہ سب سے زیادہ 20 وکٹیں حاصل کرنے والے بولر تھے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا ان پر اعتماد نہیں رہا، غالباً ان کے ذہن میں حارث رؤف کی ایشیا کپ کے فائنل میں انڈیا کے خلاف مایوس کن کارکردگی ہوسکتی ہے جس میں انہوں نے تین اعشاریہ چار اوورز میں پچاس رنز دے ڈالے تھے۔
وہ آخری اوور میں انڈیا کو جیت کے لیے درکار دس رنز بنانے سے بھی نہ روک سکے تھے حالانکہ اسی ٹورنامنٹ میں انڈیا کے خلاف سپر فور میچ میں انہوں نے چار اوورز میں صرف 26 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
نسیم شاہ کے سلیکشن پر بھی بات ہو رہی ہے۔ ان کی بھی حالیہ میچوں میں کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جون 2024 میں انڈیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ میں تین وکٹیں حاصل کرنے کے بعد سے سات میچوں میں وہ سات ہی وکٹیں حاصل کر سکے ہیں، لیکن ان میں چار اوورز میں 44 رنز کے عوض کوئی وکٹ نہیں۔ تین اوورز میں 35 رنز اور دو اوورز میں 37 رنز جیسی غیر متاثرکن پرفارمنس بھی شامل ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سری لنکا کی پچز کو ذہن میں رکھتے ہوئے زیادہ تر انحصار اسپنرز پر ہوگا، تاہم شاہین شاہ آفریدی پر بھی سب کی نظریں ہوں گی۔
آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں وہ تین اوورز میں 29 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے۔ ان کے پہلے ہی اوور میں 10 رنز بنے اور پھر اگلے دو اوورز میں انہوں نے 19 رنز دیے۔ اس سے قبل ان کے لیے بگ بیش بھی کامیاب نہیں رہی۔ اس کے علاوہ وہ گھٹنے کی تکلیف میں بھی مبتلا ہوگئے تھے لیکن آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے قبل انہوں نے فٹنس ٹیسٹ پاس کر کے ٹیم میں جگہ بنائی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ ورلڈ کپ میں اپنے تجربے کو کس طرح بروئے کار لاتے ہیں۔ ان کا پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کرنا ٹیم کے حوصلے بلند کر دیتا ہے اور ہر کوئی یہ منظر بار بار دیکھنا بھی پسند کرتا ہے۔

Picture of Abdul Rasheed Shakoor

Abdul Rasheed Shakoor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے