پی ایس ایل 11 : کسے رکھیں کسے نہیں ؟

عبدالرشید شکور۔

کرکٹ کی دنیا میں ہنگامہ خیز دن

کرکٹ کی دنیا میں یہ شب و روز ہنگامہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔
ایک جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرکت کا معاملہ پوری شدت کے ساتھ زیربحث ہے تو دوسری جانب انڈر 19 ورلڈ کپ اور پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی شہ سرخیوں میں ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پی ایس ایل 11 بھی اپنی مکمل دلچسپی کے ساتھ سب کے سامنے ہے۔

پی ایس ایل 11 اور نئی ٹیمیں

پی ایس ایل کے معاملے میں شائقین کی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دس سال مکمل ہونے کے بعد اس میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ ہوا ہے جو سیالکوٹ اور حیدرآباد ہیں۔
اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماضی کے برعکس اس بار کھلاڑی نیلامی (آکشن) کے ذریعے ٹیموں کا حصہ بنیں گے۔

پہلے ہر فرنچائز کو آٹھ کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت تھی، لیکن اس بار یہ تعداد نہ صرف کم کرکے چار کردی گئی ہے بلکہ یہ بھی طے پایا ہے کہ ہر کیٹگری میں صرف ایک کھلاڑی کو برقرار رکھا جاسکے گا۔
یہ فیصلہ دو نئی ٹیموں کی آمد کی وجہ سے کیا گیا ہے تاکہ انہیں بھی اپنی پسند کے کرکٹرز حاصل کرنے میں آسانی رہے۔

فرنچائزز کے لیے مشکل فیصلہ

اس لحاظ سے یہ صورتحال خاصی دلچسپ لیکن فرنچائزز کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہے کہ وہ ہر کیٹگری میں کس ایک کھلاڑی کو برقرار رکھیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں دوسرے کھلاڑی کو چھوڑنا پڑے گا، اور پھر انہیں حاصل کرنے کے لیے نیلامی میں قسمت آزمائی کرنی پڑے گی۔

پی ایس ایل کی تاریخ کا پہلا آکشن 11 فروری کو ہوگا۔

کھلاڑیوں کی کیٹگریز

پی ایس ایل 11 کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے پانچ کیٹگریز میں مجموعی طور پر 89 کھلاڑیوں کی فہرست جاری کردی ہے، جن میں سے فرنچائزز کو ان پانچوں کیٹگریز میں ایک ایک کھلاڑی کو برقرار رکھنا ہوگا۔

  • پلاٹینم کیٹگری: 16 کھلاڑی

  • ڈائمنڈ کیٹگری: 11 کھلاڑی

  • گولڈ کیٹگری: 32 کھلاڑی

  • سلور اور ایمرجنگ کیٹگری: 30 کھلاڑی

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کس فارمولے کے تحت کھلاڑیوں کو ایک کیٹگری سے دوسری کیٹگری میں ترقی دی گئی ہے۔
جیسے پانچ کھلاڑیوں سلمان علی آغا، صاحبزادہ فرحان، محمد نواز، حسن علی اور ابرار احمد کو پلاٹینم کیٹگری میں ترقی دی گئی ہے۔ ان میں سے صاحبزادہ فرحان گزشتہ سال گولڈ کیٹگری میں تھے جبکہ باقی چار کھلاڑی ڈائمنڈ کیٹگری سے پلاٹینم کیٹگری میں آئے ہیں۔

گزشتہ سال کے پلاٹینم کھلاڑی

گزشتہ سال جو 11 کھلاڑی پلاٹینم کیٹگری میں تھے وہ اس بار بھی برقرار رکھے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں:

شاداب خان، نسیم شاہ، عماد وسیم، شاہین آفریدی، فخرزمان، حارث رؤف، بابراعظم، محمد رضوان، صائم ایوب، محمد عامر اور فہیم اشرف۔

فرنچائزز کی صورتحال

اب آتے ہیں اس بات پر کہ فرنچائزز کے لیے کتنا مشکل ہوگا کہ وہ کس کھلاڑی کو برقرار رکھیں اور کسے نہیں؟

لاہور قلندرز
پلاٹینم کیٹگری میں کپتان شاہین آفریدی، حارث رؤف اور فخرزمان شامل ہیں۔ یہ تینوں ابتدا ہی سے لاہور قلندرز کا حصہ رہے ہیں لیکن نئے طریقہ کار کے تحت صرف ایک کھلاڑی کو برقرار رکھا جاسکے گا۔

پشاور زلمی
پلاٹینم کیٹگری میں بابراعظم اور صائم ایوب موجود ہیں، جن میں سے ایک کو چھوڑنا پڑے گا۔

اسلام آباد یونائٹڈ
پلاٹینم کیٹگری میں شاداب خان، نسیم شاہ، سلمان علی آغا، صاحبزادہ فرحان، محمد نواز اور عماد وسیم شامل ہیں۔ ان میں سے پانچ کھلاڑی آکشن میں جائیں گے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
پلاٹینم کیٹگری میں ابرار احمد، فہیم اشرف اور محمد عامر شامل ہیں، جن میں سے ایک برقرار رہے گا۔

ملتان سلطانز اور کراچی کنگز
ان دونوں کے لیے صورتحال نسبتاً آسان ہے کیونکہ پلاٹینم کیٹگری میں ان کے پاس بالترتیب محمد رضوان اور حسن علی ہی موجود ہیں۔

اسی طرح اسلام آباد یونائٹڈ کا کوئی بھی کھلاڑی ڈائمنڈ کیٹگری میں نہیں ہے جبکہ پشاور زلمی کا ایک ہی کھلاڑی سفیان مقیم ڈائمنڈ کیٹگری میں ہے۔

غیر ملکی کھلاڑی اور دیگر فیصلے

پلاٹینم کیٹگری کے علاوہ دیگر کیٹگریز میں بھی فرنچائزز کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کسے برقرار رکھیں اور کسے نہیں۔

پی ایس ایل 11 کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ فرنچائزز کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ کسی ایک غیرملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرسکتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ کھلاڑی پی ایس ایل 10 نہ کھیلا ہو۔

تیاریوں کا آغاز

اس وقت ہر فرنچائز پی ایس ایل کی تیاری کے سلسلے میں خاصی متحرک نظر آرہی ہے۔
نئی ٹیم حیدرآباد نے آسٹریلیا کے جیسن گلیسپی کو ہیڈ کوچ مقرر کردیا ہے۔ یہ وہی جیسن گلیسپی ہیں جو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ریڈ بال ہیڈ کوچ بنے تھے لیکن بورڈ سے اختلافات کے سبب عہدہ چھوڑ گئے تھے۔

آغاز کی تاریخ

پی ایس ایل 11 کا آغاز 26 مارچ کو ہوگا۔

Picture of Abdul Rasheed Shakoor

Abdul Rasheed Shakoor

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے