پی ایس ایل شائقین کے بغیر نامکمل

پی ایس ایل شائقین کے بغیر نامکمل

عبدالرشید شکور۔

پی ایس ایل شائقین کے بغیر نامکمل

پاکستان سپر لیگ ، شائقین کے بغیر خالی اسٹیڈیمز میں کیا رنگ دکھائے گی ؟ یہ اسوقت سب سے اہم سوال ہے ۔
پاکستان سپر لیگ ، پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا برانڈ ہے جو ملک ہی نہیں ملک سے باہر کے کھلاڑیوں اور شائقین کو اپنی جانب ہر سال متوجہ کرتی ہے اور شائقین کو بے صبری سے ان میچوں کو اسٹیڈیمز میں جاکر دیکھنے کا انتظار رہتا ہے لیکن وہ اس بار اسٹیڈیمز میں بیٹھ کر ان میچوں سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہیں گے ۔ کم ازکم جب تک حالات میں بہتری نہیں آتی یہ پی ایس ایل تماشائیوں کے بغیر ہی کھیلی جائے گی۔

au-image

آسٹریلوی کرکٹرز سب سے نمایاں
اس پی ایس ایل میں ہمیں آُسٹریلوی کرکٹ کی چھاپ زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔ اسٹیو اسمتھ اس ایونٹ کے مہنگے ترین کھلاڑی ہیں جنہیں ملتان سلطانز نے 14 کروڑ روپے میں حاصل کیا ہے ۔ ان کے علاوہ ڈیوڈ وارنر۔گلین میکسویل ایشٹن ٹرنر ۔ مارنس لبوشین اور ایڈم زمپا بڑے نام ہیں ۔ ان میں ڈیوڈ وارنر کراچی کنگز۔ ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز اور مارنس لبوشین حیدرآباد کنگزمین کے کپتان بھی ہیں۔
ایشٹن ٹرنر کی وجہ شہرت بگ بیش ہے وہ پرتھ اسکارچرز کی کپتانی کرتے ہوئے اسے ٹائٹل بھی جتواچکے ہیں لیکن مارنس لبوشین کی پی ایس ایل میں شمولیت اور پھر انہیں کپتان بنایا جانا اس لیے حیران کن ہے کیونکہ وہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے مستند کھلاڑی نہیں ہیں۔ وہ صرف ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل 2022 میں پاکستان کے خلاف کھیلے تھے اور مجموعی طور پر بھی ٹی ٹوئنٹی میں ان کا ریکارڈ اتنا کوئی خاص نہیں ہے۔اب دیکھتے ہیں وہ حیدرآباد کنگزمین کے لیے کیسی پرفارمنس دیتے ہیں۔
راولپنڈیز نے لیگ شروع سے صرف ایک روز پہلے آسٹریلوی بیٹسمین عثمان خواجہ کو 2 کروڑ 80 لاکھ روپے میں حاصل کرلیا ہے۔ عثمان خواجہ اس سے قبل بھی پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے سنچری بناچکے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے قابل ذکر کھلاڑیوں میں ڈیرل مچل ۔ ڈیون کانوے۔ مائیکل بریسویل اور مارک چیپمین شامل ہیں جن سے ان کی ٹیموں کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔اسی طرح انگلینڈ کے معین علی اور سیم بلنگز جبکہ جنوبی افریقہ کے رائلے روسو۔ تبریز شمسی اور ریزا ہینڈرکس بھی وسیع تجربے کے مالک ہیں۔ سری لنکا کے کرکٹرز کوسال پریرا اور کوسال مینڈس بھی میلہ لوٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
زمبابوے کے سکندر رضا لاہور قلندرز کے اسکواڈ کا اہم حصہ ہیں ۔ یہ وہی سکندر رضا ہیں جنہوں نے گزشتہ سال انگلینڈ سے لاہور کا طویل سفر طے کرکے ٹاس سے کچھ دیر قبل قذافی اسٹیڈیم پہنچ کر فائنل کھیلا تھا اور لاہور قلندرز کو جیت سے ہمکنار کردیا تھا۔
نیپال کے دیپندرا سنگھ ایری۔ امریکہ کے آندریز ہوز اور متحدہ عرب امارات کے محمد وسیم بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے ارادے سے پی ایس ایل میں آئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے مستفیض الرحمن کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو لاہور قلندرز کا حصہ بنے ہیں۔
مستفیض الرحمن کو بھارت میں پائی جانے والی انتہا پسندی کی لہر کی وجہ سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے آئی پی ایل سے باہر کردیا تھا جس کے بعد ایک تنازع کھڑا ہوگیا تھا اور بنگہ دیش نے سکیورٹی خدشات کے سبب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا اور پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کی حمایت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا جو بعد میں ختم کردیا تھا۔ صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ اس بار کوچنگ اسٹاف میں بھی چند بڑے نام دکھائی دے ہیں۔ 

آسٹریلیا کے جیسن گلسپی کی پاکستان واپسی ہوئی ہے لیکن اس بار وہ حیدرآباد کنگز مین کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے آئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اختلافات کی وجہ سے پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ کا عہدہ چھوڑا تھا ان کے ساتھ نیوزی لینڈ کے گرانٹ بریڈبرن بھی حیدرآباد کنگزمین کے فیلڈنگ کوچ ہیں ۔ وہ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ رہے تھے لیکن مستعفی ہوگئے تھے۔
آسٹریلیا کے سابق کپتان ٹیم پین کو ملتان سلطانز نے ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے۔ویسٹ انڈیز کے اوٹس گبسن پشاور زلمی، انگلینڈ کے روی بوپارا کراچی کنگز ، جنوبی افریقہ کے جسٹن کیمپ راولپنڈیز کے ہیڈ کوچ اور ویسٹ انڈیز کے کورٹنی والش بولنگ کوچ ہیں ۔
نیوزی لینڈ کے لیوک رانکی اسلام آْباد یونائٹڈ کے ہیڈ کوچ ہیں تاہم لاہور قلندرز نے ابھی تک اپنے ہیڈ کوچ کے طور پر کوئی تقرری نہیں کی ہے۔
معین خان وہ واحد پاکستانی ہیں جو اس پی ایس ایل میں ہیڈ کوچ ہیں ۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ ان کی دیرینہ وابستگی پہلے دن سے برقرار ہے۔

babar-imgae

پاکستانی کرکٹرز۔
اگر ہم پاکستانی کرکٹرز پر نظر ڈالیں تو شاہین شاہین آفریدی لاہور قلندرز کے کپتان ہیں۔ شاداب خان اسلام آْباد یونائٹڈ کی کپتانی کررہے ہیں محمد رضوان کو پہلی بار پی ایس ایل میں شامل ہونے والی راولپنڈیز نے کپتان مقرر کیا ہے۔ بابر اعظم زلمی کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سعود شکیل پر اعتماد برقرار رکھا ہے۔
پاکستانی شائقین کے لیے سب سے بڑی دلچسپی بابراعظم ہی رہے ہیں لیکن یہ پی ایس ایل نہ صرف بابراعظم بلکہ شاہین آفریدی ۔شاداب خان اور محمد رضوان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ ان چاروں کی حالیہ کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ اسی طرح سب کی نظریں صائم ایوب پر بھی ہونگی جو پاکستانی کھلاڑیوں میں سب سے مہنگے یعنی بارہ کروڑ روپے میں حیدرآباد کنگز مین میں شامل ہوئے ہیں لیکن ان کی حالیہ کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے اور یہ پی ایس ایل ان کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہوگی۔
دیگر پاکستانی کرکٹرز میں صاحبزادہ فرحان۔ معاذ صداقت۔ خواجہ نافع۔ حسن نواز۔ سلمان علی آغا۔ فہیم اشرف۔ حسن علی۔ عثمان طارق۔ ابرار احمد۔ حارث رؤف ۔ نسیم شاہ۔ عباس آفریدی ۔یاسر خان۔ عرفان نیازی ۔ خوشدل شاہ اور عثمان خان ایسے نام ہیں جو کسی بھی وقت اپنی پرفارمنس سے میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان غیرملکی کرکٹرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے پی ایس ایل سے کنٹریکٹ کیے تھے لیکن آخری لمحات میں معاہدے توڑ کر آئی پی ایل میں شمولیت اختیار کرلی۔ ان کھلاڑیوں میں زمبابوے کے موزاربانی اور سری لنکا کے داسن شناکا شامل ہیں۔

Picture of Abdul Rasheed Shakoor

Abdul Rasheed Shakoor