21 سالہ عرفات منہاس پہلے ہی انٹرنیشنل کرکٹ میں آچکے ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی 19 سالہ سمیر منہاس کے لیے بھی وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب وہ بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہونگے۔فی الحال یہ دونوں بھائی پاکستان سپر لیگ میں عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
سمیر منہاس نے اسلام آباد یونائٹڈ کی طرف سے کھیلتے ہوئے لگاتار دو میچوں میں 82 ناٹ آؤٹ اور 70 رنز کی شاندار اننگز کھیلی ہیں ۔ عرفات منہاس ملتان سلطانز کی طرف سے کھیلتے ہوئے بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں اچھی پرفارمنس دے رہے ہیں۔
سمیر منہاس کا ٹیلنٹ ان کے روشن مستقبل کا پتہ دے چکا ہے۔ انہوں نے ایشیا کپ انڈر 19 کے فائنل میں انڈیا کے خلاف 172 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔اسی ٹورنامنٹ میں انہوں نے ملائشیا کے خلاف 177 رنز اسکور کیے جبکہ سہ فریقی انڈر 19سیریز میں انہوں نے زمبابوے کے خلاف دو سنچریاں بنائی تھیں اس کے علاوہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں انہوں نے زمبابوے کے خلاف 74 ناٹ آؤٹ اور نیوزی لینڈ کے خلاف 76رنز ناٹ آؤٹ رنز کی دو اچھی اننگز بھی کھیلی تھیں۔
کریئر میں والد کا اہم کردار۔
عرفات منہاس اور سمیر منہاس کی اس کارکردگی اور ان کے اس سفر میں جہاں ان کی اپنی محنت اور ٹیلنٹ کا عمل دخل نمایاں ہے وہاں اس سلسلے میں ایک اور شخص کی محنت اور قربانی کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔
یہ شخص کوئی اور انہیں بلکہ ان دونوں کے والد کاشف منہاس ہیں جنہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کے کرکٹ کریئر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کاشف منہاس ملتان کے ایک کار شو روم کے مالک ہیں ۔ یہ ان کا خاندانی بزنس ہے جو ان کے والد نے شروع کیا تھا ۔ کاشف منہاس نے خود بھی کرکٹ کھیلی ہے۔ ٹیپ بال کرکٹ سے ہوتے ہوئے انہوں نے انڈر19 کرکٹ میں فاسٹ بولر کی حیثیت سے ملتان ریجن کی نمائندگی کی لیکن پھر والد نے کرکٹ کے بجائے بزنس پر توجہ دینے کے لیے کہا چنانچہ انہیں کرکٹ چھوڑنی پڑی لیکن جو کچھ وہ خود نہ کرسکے اب ان کے بیٹے ان کے خواب کی تعبیر بنے ہوئے ہیں۔
اسٹیو وا اور مارک وا کو نیٹ میں بولنگ۔
1998 میں پاکستان کا دورہ کرنے والی آسٹریلوی ٹیم ملتان کے ایم سی سی گراؤنڈ میں پریکٹس کررہی تھی ۔ نیٹ میں متعدد مقامی بولرز مہمان ٹیم کو بولنگ کررہے تھے انہی میں کاشف منہاس بھی تھے ۔ انہوں نےتیز گیندوں کے درمیان جب سلو گیند کی تو اسٹیو وا اور مارک وا یہ گیند کھیلتے ہوئے حیران رہ گئے اور انہوں نے کاشف منہاس کی بڑی تعریف کی۔
ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر۔
یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کاشف منہاس پروفیشنل فوٹوگرافر بھی ہیں۔
اس بارے میں انہوں نے مجھے بتایا ״ فوٹوگرافی کا شوق مجھے اپنے ایک دوست اسرار سید کے ہاتھ میں کیمرا دیکھ کر ہوا ۔ انہی کے کہنے پر میں نے بھی کیمرا خریدا اور ملتان فوٹوگرافرز کلب میں بھی شامل ہوا جس کے کئی ممبرز تھے۔ یہ شوق آہستہ آہستہ جنون بنتا چلا گیا ۔ یہ شوق مجھے پاکستان کے کئی علاقوں تک لے گیا جن میں کیلاش قابل ذکر ہے۔ میں نے اس علاقے میں موجود خوبصورتی کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ یہ کیلاش کی تصاویر ہی ہیں جن کی وجہ سے مجھے جاپان میں ہونے والی نمائش میں بھی مدعو کیاگیا جہاں سب نے میری تصویروں کی تعریف کی ״ ۔
کاشف منہاس کے انسٹاگرام پر نظر ڈالیں تو کیلاش کے خوبصورت چہروں والی تصویریں دیکھ کر خوشگوار احساس ہوتا ہے۔
کاشف منہاس کو 2019 میں اپنی ایک تصویر پر نیشنل جیوگرافک کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
وہ بتاتے ہیں ״ ایک دن میں ملتان سے کوٹ ادو جارہا تھا کہ راستے میں میں نے ایک چرواہے کی تصویر بنائی تھی اسی تصویر پر مجھے یہ ایوارڈ ملا تھا ״۔
کاروبار اور فوٹوگرافی کا شوق اپنی جگہ لیکن کاشف منہاس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اپنے بیٹوں کی کرکٹ کے لیے وقف کررکھا ہے۔
وہ کہتے ہیں ״ میں اپنے بیٹوں کے ساتھ شہر سے باہر ان کے ہر میچ ہر ٹرائلز میں جاتا رہا ہوں۔ ایک بار عرفات پنڈی میں کھیلتے ہوئے بے ہوش ہوگیا تھا ۔ مجھے ملتان میں پتہ چلا اسوقت کوئی ہڑتال تھی ٹرانسپورٹ بند تھی میں اس کی طبعیت کی فکر میں اپنی موٹربائیک پرہی ملتان سے پنڈی کے لیے نکل پڑا تھا ״۔
گھر کی چھت پر پچ بنوادی
ملتان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ندیم قیصر نے بہت قریب سے عرفات اور منہاس کا کریئر دیکھا ہے۔
وہ بتاتے ہیں ״ انضمام الحق نے ملتان میں اپنی کرکٹ اکیڈمی شروع کی تھی اس میں مختلف ایج گروپ کی ٹیمیں بنائی تھیں۔ عرفات منہاس اسوقت صرف دس سال کے تھے جب وہ اس اکیڈمی میں آئے تھے۔ اکیڈمی کے کوچ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد رمضان تھے ۔ عرفات نے ایک میچ میں عمدہ آل راؤنڈ پرفارمنس دی تھی جس پر انضمام الحق بھی بہت متاثر ہوئے تھے۔ عرفات کی کرکٹ کو نکھارنے میں کریسنٹ کلب کے طاہر محمود کا بھی اہم کردار رہا ہے ״ ۔
ندیم قیصر کہتے ہیں ״ عرفات اور سمیر کی کرکٹ میں ان کے والد نے جس طرح اہم کردار ادا کیا ہے وہ سب کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ کووڈ کے دنوں میں جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب کچھ بند تھا تو کاشف منہاس نے یہ سوچ کرکہ دونوں بیٹوں کی کرکٹ کہیں متاثر نہ ہوجائے، انہوں نے اپنے گھر کی چھت پر ہی فوری طور پر پچ بنوادی ، نیٹ اور روشنی کا انتظام کردیا تاکہ دونوں بیٹے کسی رکاوٹ کے بغیر کرکٹ کھیلتے رہیں״۔
میچ دیکھنے کی تصویر وائرل ۔
کاشف منہاس اور ان کے دونوں بیٹوں کی نو سال پرانی ایک تصویر ان دنوں سوشل میڈیا پر سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جس میں دونوں بیٹے ان کے ساتھ قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی انٹرنیشنل الیون میچ دیکھ رہے ہیں۔
کاشف منہاس کہتے ہیں ״ دونوں بیٹوں کو کم عمری میں ہی اسٹیڈیم لے جاکر میچ دکھانے کا مقصد یہی تھا کہ انہیں کرکٹ کا ماحول دکھاسکوں لیکن ساتھ ساتھ ان کے دماغ میں یہ بات بھی بٹھاسکوں کہ میدان میں جو کھلاڑی کھیل رہے ہیں وہ بھی آپ ہی کی طرح کبھی چھوٹے بچے تھے اور محنت کرکے اس مقام تک پہنچے ہیں۔اللہ نے یہ مقصد پورا کیا اور آج یہ دونوں بڑی کرکٹ کھیل رہے ہیں״۔
وہ کہتے ہیں ״ جب آپ کی اولاد کسی بھی شعبے میں ترقی کرتی ہے تو آپ کو فخر کا احساس ہوتا ہے اور انہیں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے یہ قدرتی امر ہے ۔ میرے لیے وہ لحمہ ہمیشہ یاد رہے گا کہ جب پی سی بی کے چیرمین محسن نقوی سمیر کو اس کی شاندار کارکردگی پر مبارک باد دے رہے تھے تو میں وہ منظر گراؤنڈ میں اپنے کیمرے کے ذریعے محفوظ کررہا تھا ۔ میں اپنے احساسات کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ״۔








